اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ
ابنا ـ کے مطابق، حزب اللہ لبنان کے ڈرون یونٹ نے خصوصی کاروائی کے دوران مقبوضہ حیفا میں صہیونیوں
کے اہم ترین ایئربیس کو نشانہ بنا کر آؤٹ آف سروس کر دیا اور اب تیس لاکھ
آبادکاروں کا دوسرا بڑا اقتصادی شہر حزب اللہ کے میزائلوں کے سامنے نہتا ہو گیا ہے
اور یہ شہر خالی ہونے کے دہانے پر ہے۔ جبکہ صہیونی ریاست نے لبنان پر حملے کا مقصد
دو لاکھ صہیونیوں کی شمالی فلسطین میں واپس لانا، بتایا تھا۔
مقبوضہ فلسطین کے شمالی،
شمال مشرقی اور شمال مغربی سرحدوں پر حزب اللہ کے مجاہدین اور صہیونی فوجیوں کے
درمیان جھڑپیں جاری ہیں، جہاں صہیونی 12 زمینی جنگ شروع کرنے کے بارہ دنوں میں ایک
قدم بھی پیشقدمی نہیں کر سکے ہیں اور تین اہم واقعات نے جرائم پیشہ صہیونی گینگ کو
میدان جنگ میں بری طرح متاثر کر دیا ہے۔
صہیونیوں نے دہشت گردانہ
کاروائیاں کرنے بعد، بزعم خود، کامیابی کے نشے میں بدمست ہو کر محور مقاومت (محاذ
مزاحمت) کے سامنے رجز خوانی کرنے لگے تھے اور مختصر سے عرصے میں جنوبی لبنان میں
10 کلومیٹر تک پیشقدمی کرنے اور شمالی فلسطین سے بھاگنے والے یہودی آبادکاروں کی
فوجی واپسی کے حوالے سے شيخیاں بگھار رہے تھے۔ لیکن حزب اللہ کے بیان نے انہیں
دھچکا لگایا۔
حزب اللہ نے اپنے بیان میں
یہودی آبادکاروں کو خبردار کیا کہ "عکا، طبریہ اور حیفا" کے تزویراتی
اہمیت کے علاقوں کو فوری طور پر خالی کریں۔ اور دوسرے شہروں میں بھی فوجی اڈوں اور
چھاؤنیوں کے آس پاس کے علاقوں کو بھی خالی کریں۔ چنانچہ صہیونی ریاست نے نہ صرف
بھاگے ہوئے آبادکاروں کو شمالی مقبوضہ فلسطین میں بحال نہیں کر سکی بلکہ اب لبنان
سے 45 کلومیٹر کے فاصلے تک کے نوآبادیاں خالی کرانا پڑیں گی اور ان علاقوں میں
رہائش پذیر یہودی آبادکاروں کو جانا پڑے گا۔ اور یہ جعلی ریاست پر ایک کاری ضرب
ہے۔
حزب اللہ کے اس بیان سے
ثابت ہؤا کہ حزب اللہ نہ صرف کمزور نہیں ہوئی بلکہ وہ باقاعدہ حملے کرنے کی پہلی جیسی
صلاحیت رکھتی ہے اور ایسے حال میں کہ اس سے قبل سرحد سے 10 کلومیٹر تک فاصلے پر
واقع صہیونیوں آبادکاروں کو شمالی فلسطینی سے بھگا چکی ہے اب اس نے اپنی کاروائیوں
کی سطح 45 کلومیٹر تک وسیع تر کر دی ہے اور جنگ جاری رہنے کی صورت میں صہیونی ریاست
کو لاکھوں مزید بے گھر یہودی آبادکاروں کا سامنا ہوگا جو شمالی فلسطینی علاقے خالی
کرکے یافا [تل ابیب] کی طرف کوچ کرنے والے ہیں۔
دوسرا بڑا واقعہ ـ جس نے
صہیونی ریاست کے سرغنوں کو حالیہ دنوں میں شدید تشویش میں ڈال دیا ہے ـ وہ یافا سے
10 کلومیٹر کے فاصلے پر انتہائی علاقے ہرتزلیا پر حزب اللہ کے ڈرون حملے کا واقعہ
ہے۔ یہ ڈرون صہیونی دفاعی نظامات کو ناکام بناتے ہوئے تزویراتی اہمیت کے حامل اس
علاقے میں پہنچا تھا جس کی وجہ سے صہیونی سرغنے بہت اداس ہو گئے ہیں کیونکہ انہیں
توقع نہیں تھی کہ ایک ڈرون اتنے فاصلے سے آکر دارالحکومت تک پہنچے گا اور ہرتزلیا
کو نشانہ بنائے گا۔
ہرتزلیا صہیونیوں کے
خودساختہ دارالحکومت کے شمال میں واقع ہے، جس کا فاصلہ لبنانی سرحد تک 111 کلومیٹر
ہے۔ یہ پوش علاقہ ہے جہاں یہودی بھنیوں اور کاروباریوں کا بسیرا ہے، یہاں صہیونی
حکام کی رہائشگاہیں بھی ہیں اور بیرونی ممالک کے سفارتخانے بھی، اور اس علاقے میں
جدیدترین ٹیکنالوجی کی کمپنیاں بھی ہیں۔
حزب اللہ کے ڈرون نے اس
علاقے کی بجلی منقطع کر دی، اور ہرتزلیا کو محفوظ مقام سمجھ کر اطراف سے آنے والے
تاجروں اور صنعتکاروں کو بھی اس نتیجے پر پہنچایا کہ مقبوضہ فلسطین واحد سرزمین ہے
جہاں اسرائیلیوں کے لئے کوئی بھی محفوظ نقطہ نہیں ہے؛ چنانچہ وہ یہ سوچنے پر بھی
مجبور ہیں کہ کیا انہیں قریب ہی واقع سفارتخانوں سے رجوع کرکے ویزا لے کر بھاگنا
چاہئے یا نہیں!
تیسرا اہم مسئلہ، جس نے صہیونیوں
کے بے چین کر دیا ہے، وہ اس شمالی حیفا میں واقع اہم ترین صہیونی فضائی اڈے پر حزب
اللہ کا حالیہ واقعہ ہے جس میں اس اڈے کے کمانڈ آفس کو نشانہ بنایا گیا۔
حزب اللہ نے اس کاروائی میں
کریات العیزر میں اسٹریٹجک فضائی اڈے کو راکٹوں اور ڈرون تیاروں سے نشانہ بنایا،
جس کی وجہ سے یہ اڈہ ـ جس کے ذمہ حیفا اور نواحی علاقوں کے فضائی دفاع کی ذمہ داری
عائد ہے ـ آؤٹ آف سروس ہو گیا اور اس مسئلے نے صہیونی سرغنوں کو مزید فکرمند و پریشان
کر دیا، کیونکہ ثابت ہؤا کہ حیفا زد پذیر ہے۔ حیفا کی 30 لاکھ آبادی ہے اور اگر
جنگ جاری رہی تو یہ صہیونی آبادکار بھی مرکز کی طرف بھاگیں گے اور لبنان پر حملے
کے اعلان کردہ صہیونی مقاصد بالکل خاک میں مل جائیں گے۔
مذکورہ اڈے کے دفاعی اور
الیکٹرانک نظامات کی تباہی کے بعد نہ صرف حیفا اور اس کے نواحی علاقے نہتے ہوگئے ہیں
بلکہ اب حزب اللہ کے میزائل اور ڈرون طیارے بڑی آسانی سے گذر کر حیفا کی بندرگاہ اور حیفا
کے جنوبی علاقوں تک پہنچ رہے ہیں۔
اب جو صہیونی ریاست غزہ میں
ناکامی کے بعد لبنان میں بھی ہارنے لگی تو وہ میڈیاوارفیئر اور تشہیری مہم کے ذریعے
اپنی شکست چھپا کر اور میدان جنگ کے حقائق کو سینسر کرکے، خود کو فاتح کے طور پر
متعارف کروانے، اور حزب اللہ کی پوزیشن کو
کمزور دکھانے کی ناکام کوشش کر رہی تھی کہ اسی اثناء میں حزب اللہ نے ایک بیان جاری
کیا اور دو کاروائیوں کا اہتمام کرکے ثابت کیا کہ میدان جنگ کی صورت حال پہلے دنوں
سے بالکل مختلف ہے، جنگی تقابل میں حزب اللہ کا پلڑا بھاری ہے، اور اس کے ڈرون یونٹ
کا طاقت کا مظاہرہ اور گولانی بریگیڈ کے ڈائننگ ہال کو نشانہ بنانا، اور ایلیٹ
فورس کے افسروں اور جوانوں کو ہلاک اور زخمی کرنا ان حقائق کا عملی ثبوت ہے اور
حزب اللہ نے ثابت کیا ہے کہ غاصب درندوں کے تزویراتی اثاثے حزب اللہ کے ہتھیاروں
کے سامنے زد پذیر اور نہتے ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110